سورۃ الحجر کا تعارف
سورۃ الحجر یہ قرآن مجید کی 15ویں سورۃ ہے، جو مکی سورۃ ہے۔ اس میں 99 آیات اور 6 رکوع ہیں۔ سورۃ الحجر کا نام آیت 80 میں ذکر کی گئی قوم "اصحاب الحجر" کی مناسبت سے رکھا گیا ہے، جو ایک نافرمان قوم تھی اور اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی۔ یہ سورۃ توحید، قیامت، اللہ کی تخلیق کی نشانیاں، اور انبیاء کی دعوت کے موضوعات پر مشتمل ہے۔ سورۃ الحجر کا تعارف: نام کی وجہ تسمیہ "الحجر" ایک وادی کا نام ہے جہاں قوم ثمود آباد تھی۔ اس قوم نے اللہ کے احکام کی نافرمانی کی اور انہیں عذاب دیا گیا۔ نزول: یہ سورۃ مکی دور میں نازل ہوئی، جب کفار مکہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت کا سامنا تھا۔ مرکزی موضوعات: توحید، قیامت، اللہ کی رحمت و قدرت، انبیاء کی جدوجہد، اور کافروں کے انجام کا ذکر۔ سورۃ الحجر کے اہم موضوعات: 1. قرآن کی اہمیت: قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ اور اس کے معجزاتی ہونے کا ذکر۔ آیت 9: "بے شک ہم نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔" 2. کفار کے اعتراضات اور ان کا رد: کفار مکہ کے اعتراضات اور ان کی ہٹ دھرمی کا ذکر۔ آیت 2-3: "کافر کبھی آرز...